بنگلورو،8؍فروری (ایس او نیوز) ریلوے پٹڑیوں پر ہونے والی غیر فطری اموات کے معمہ کو حل کرنے کے مقصد سے ریلوے انجن پر کیمرہ نصب کرنے کی تجویز ریلوے پولیس نے انڈین ریلوے کے سامنے پیش کی ہے۔
ریاست کرناٹک میں ہر سال 1500/افراد ریلوے پٹڑیوں پر ہلاک ہوتے ہیں۔ اس میں زیادہ معاملات غیر فطری اموات خود کشی کے طو رپر درج کئے گئے ہیں۔ صرف 10تا 15معاملات قتل کیس کے طو رپر درج کئے گئے ہیں۔
ریل کی زد میں آکر مرنے والوں کے معاملات میں زیادہ کا تعلق مشتبہ اور قتل سے متعلق ہے، اس کے باوجود اس قتل کے لئے مناسب شواہد نہیں مل پارہے ہیں، اس لئے ان اموات کے پیچھے کا راز جاننے کے لئے ریلوے انجن کے سامنے کیمرہ نصب کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
عمومی طو رپر ریلوے پٹڑیاں ویران علاقوں میں بچھی ہوئی ہوتی ہیں۔قاتل اور مجرم عناصر بات چیت کرنے کی غرض سے افراد کو ان علاقوں میں لے جا کر پٹڑیوں میں پھینک دیتے ہیں۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان افراد کو قتل کرکے مردہ جسم کو پٹڑیوں پر پھینک دیتے ہیں۔اس قسم کے معاملات پر کسی بھی قسم کے شواہد نہیں مل سکتے۔ریل کی تیز رفتار کی وجہ سے جسم چھلنی ہوجاتا ہے، جس کی شناخت کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور پولیس کو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ معاملہ قتل ہے یا خود کشی کا۔اس دوران مقتول کے رشتہ دارپولیس تھانہ میں قتل کا معاملہ درج کرتے ہیں تو اس وقت یہ معاملہ دوسرا رخ اختیار کرجاتا ہے۔ بہت سارے قتل معاملات خودکشی کی شکل میں اپنے اختتام کو پہنچ جاتے ہیں۔اس لئے قاتلوں کا پتہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔
ایسے معاملات پر قابو پانے کے مقصد سے ریلوے پولیس نے ریلوے انجن پر کیمرہ نصب کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ریاستی پولیس اور ریلوے پولیس حدود کار الگ الگ ہوتے ہیں۔ریلوے پٹڑی پر ہونے والے تمام معاملات کو ریلوے پولیس ہی درج کرتے ہیں۔پٹڑی پر مردہ جسم پایا جاتا ہے تو ریاستی پولیس کے علم میں لایا جاتا ہے۔پٹڑی پر اور ریلوے اسٹیشنوں میں اچانک ریل کی زد میں آکر خود کشی کئے جانے کے معاملات میں زیادہ تعداد مرد افراد کی ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں 1460مردوں نے ریلوے پٹڑی پر خود کشی کی ہے۔ 1346/ افراد اچانک ریل کی زد میں آکر ہلاک ہوئے ہیں،جبکہ ریلوے اسٹیشنوں میں دیگر وجوہات سے 620مرد ہلاک ہوئے ہیں۔